ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جامعہ نگرمیں پولیس کے سامنے پھر فائرنگ،اب شاہین باغ نشانہ، ملزم کپل گوجر گرفتار،انوراگ ٹھاکرکے بیان کے بعدغنڈوں کے حوصلے بلند

جامعہ نگرمیں پولیس کے سامنے پھر فائرنگ،اب شاہین باغ نشانہ، ملزم کپل گوجر گرفتار،انوراگ ٹھاکرکے بیان کے بعدغنڈوں کے حوصلے بلند

Sat, 01 Feb 2020 19:42:53    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم فروری(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں ہوئی فائرنگ کے دو دن بعد آج سنیچر کو  شاہین باغ میں بھی پولیس بیریکیڈ کے پاس فائرنگ ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے نے  جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے فائرنگ کی۔ پولیس نے  فائرنگ کرنے والے شخص کوگرفتارکرلیاہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

دیکھنایہ ہے کہ کیا اسے  بھی نابالغ قراردے کربچایاجائے گایا اس کے خلاف کچھ کارروائی بھی ہوگی۔اس سے پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس فائرنگ ہوئی تھی۔

مرکزی وزیرانوراگ ٹھاکرکے اشتعال انگیزنعرے کے بعدفائرنگ کے باوجوداب تک ان کے خلاف کوئی مضبوط کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  آج ہوئی فائرنگ میں گرفتار شخص  کا نام کپل گوجر ہے اور وہ مشرقی دہلی کے دللوپورا گاؤں کا رہنے والا ہے۔ شاہین باغ تھانے لے جاکر کپل گوجر سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر بسوال نے بتایا کہ یہ شخص ہوا میں فائرنگ کر رہا تھا، جسے فوری طور پر گرفتار کرلیاگیا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہ شخص  پولیس کے قریب ہی  کھڑا  تھا جس نے  دوتین مرتبہ فائرنگ کی۔ اس نے بتایا  کہ ہم نے اچانک گولیوں کی آوازسنی۔ بعد میں اُسے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔عینی شاہد کے مطابق جب وہ فائرنگ کررہا تھا تو اس کی بندوق جام ہو گئی، جس کے بعد وہ بھاگنے لگا۔اس نے پھر سے فائرنگ کی کوشش کی، مگر فائر نہیں گیا جس کے بعد  بندوق کو جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ اس کے بعد ہم نے کچھ پولیس والوں کی مددسے اسے پکڑ لیا۔

یاد رہے کہ  شاہین باغ میں تقریباََڈیڑھ ماہ سے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ چل رہاہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ  اس سے پہلے جمعرات کو دہلی کے جامعہ نگر  علاقے میں سی اے اے کی مخالفت کر رہے طالب علموں پر ایک دہشت گرد نے گولی چلا دی تھی جسے پولیس نے موقع پر حراست میں لے لیاتھا۔ اس گولی سے شاداب نامی  ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔

بتا دیں کہ شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف چل رہے مظاہرے کی قیادت  خواتین کر رہی ہیں۔


Share: